ابنا: شام میں ترکی کے بارڈر کے قریب مسلح باغیوں میں آپس میں لڑائی فائرنگ نتیجے میں دسیوں باغی جہنم واصل اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں زخمیوں کو فوری طور پر ایمبولینسوں اور عام گاڑیوں کے ذریعے ترکی لے جایا جارہا ہے. اطلاعات کے مطابق النصرہ اور دیگر باغی عناصر کے درمیان لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب ترکی سے مسلح باغیوں کے لئے تنخواہ کی رقم لے کر ایک گاڑی وہاں پہنچی۔عینی شاہدین کے مطابق دہشت گرد تنظیم النصرہ کے باغیوں نے پوری رقم ہتیانی چاہی جس پر ایک دوسرا گروپ، جسے نام نہاد فری سیرین آرمی کی حمایت حاصل ہے میدان میں کود پڑا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے تنخواہ کی رقم لیکر آنے والے دو افراد اور ان کے ترک محافظ مارے گئے۔ دراین اثنا النصرہ سے وابستہ دہشت گردوں نے بھی فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں فریقین کے دسیوں مسلح دہشت گرد موقع پر ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ۔بتایا جاتا ہے کہ اس سے قبل بھی تنخواہ کی وصولی کے موقع پر ہونے والی جھڑپوں میں متعدد دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔ النصرہ سے وابستہ تکفیری دہشت گردوں کا کہنا ہے کہ مسلح گروپوں میں تخواہ کی رقم تقسیم کا کام ان کے سپرد کیا جانا چا ہیے جبکہ ترک حکام اور مسلح گروپوں کی حمایت کرنے والے دیگر عرب ممالک منجملہ سعودی عرب اور قطر ان کے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے تنخواہ کی رقم برا ہ راست تقسیم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔واضح رہے کہ شام میں نام نہاد جہادی گروپوں میں لڑنے والے عرب دہشت گردوں کو سعودی عرب اور قطر کی جانب سے پانچ سے دس ہزار ڈالر اور غیر عرب جنگجوؤں کو ماہانہ ایک ہزار ڈالر کی رقم فراہم کی جا رہی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
4 جولائی 2013 - 19:30
News ID: 437113
شام میں ترکی کے بارڈر کے قریب مسلح باغیوں میں آپس میں لڑائی فائرنگ نتیجے میں دسیوں باغی جہنم واصل اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں